CS101 – Lecture 43

فیوچر آف کمپیوٹنگ
السلام علیکم
کیسے مزاج ہیں ، پچھلی دفعہ ہم نے بات کی تھی کمپیوٹنگ کے پروفیشن کی، اور اس کے ہم نے دو ایسپیکٹس کے بارے میں گفتگو کی تھی، پہلے تو ہم نے دیکھا تھا کہ کمپیوٹنگ پروفیشنل جو ہوتے ہیں ان کے مختلف رولز کیا ہوتے ہیں۔ اور ہم نے اپنی ڈسکشن کو تھوڑا سا لمیٹڈ رکھا تھا ، ہم نے یہ دیکھا تھا کہ سافٹ وئیر ڈیویلپمنٹ کی ایک چھوٹی سی کمپنی ہے اس میں جو مختلف کمپیوٹنگ پروفیشنلز ہیں ان کے رولز کیا ہیں ، وہ کیا کرتے ہیں ان کی رسپانسبیلٹٰز کیا ہیں اور یہ کہ ان کا پروفائل کیسا ہے یعنی وہ کیا ایکسپیرئنس لے کر اس پرٹیکولر رول میں آ سکتے ہیں۔
دوسری بات ہم نے پچھلی دفعہ یہ کی تھی ، ہم نے دیکھا تھا کچھ پروفیشنل ایتھیکس کے بارے میں ۔ ہم نے کچھ انٹرسٹنگ سی ، کچھ ٹریکی سیچوئشنز ڈسکس کی تھیں۔ یعنی وہاں پہ کمپیوٹنگ پروفیشنلز کے بارے میں سٹوریز ہم نے آپ کو سنائی تھیں کہ اس سچویشن میں اس پروفیشنل نے یہ کیا تھا ، آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں انہوں نے کیا صحیح کیا یا غلط کیا۔ اور دا پوائںنٹ آئی واز میک یوزر فالورز کہ پروفیشنل ایتھیکس کی سٹڈی ضروری ہے کیونکہ پروفیشنل ایتھیکس جو ہیں یہ جو سچیویشن جو میں نے آپ کو بتائی تھی اس کے بارے میں جو سوال ہیں ان کے جواب فوراً دے دیتی ہیں ، آپ کو سوچنا نہیں پڑتا ۔ آپ کو نئے نئے جوان انوینٹ نہیں کرنے پڑتے کیونکہ وہ جواب آلریڈی پروفیشنل ایتھیکس میں موجود ہیں۔ تو جب ہم نے کمپیوٹنگ پروفیشن کی بات شروع کی تھی تو پہلا سوال جو تھا وہ یہ کہ بھائی یہ کمپیوٹر پروفیشنل ہوتا کون ہے ؟ تو ہم نے کہا تھا کہ کمپیوٹر سائنٹسٹ جو ہیں انہیں بھی ہم کمپیوٹر پروفیشنل کہتے ہیں۔ سافٹ انجنئیرز ہیں، کمپیوٹر انجنیئرز ہیں اور بعض ٹیلی کام انجنئیرز ہیں انہیں بھی ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ کمپیوٹنگ پروفیشنلز ہی ہیں اور اس کے بعد ہم نے آپ کو جو بتایا تھا کہ ہم نے ایک کمپیوٹر آرگنائزیشن کو دیکھا تھا چھوٹی سی ، وچ کنسسٹڈ آف آ کلیکشن آف ٹیمز ، یعنی اس آرگنائزیشن میں چھوٹی چھوٹی اور بعض بڑی ٹیمیں تھیں۔ سب سے پہلی ٹیم ہم دیکھی تھی وہ ڈیویلپمنٹ کی ٹیم تھی۔ جس کی رسپانسیبلٹی یہ ہوتی ہے کہ سپیسیفیکیشن سٹیج سے لے کے اینڈ تک آپ نے لے کر جانا ہے ۔ یعنی سپیسیفیکیشن لکھی جا چکی ہیں ، آپ کو دی جاتی ہیں، آپ نے سب کچھ ڈیویلپ کرنا ہے ، اس کو پراپرلی ڈاکیومنٹ کرنا ہے ، کسٹمر کو ڈیلیور کرنا ہے اور کسٹمر کو اس پہ اوکے کرانا ہے ،، ڈیویلپر ٹیم کی یہ رسپانسیبیلٹی ہے ہم نے یہ بتایا تھا کہ پروجیکٹ مینیجر جو ہے وہ ایک امپارٹنٹ پارٹ ہوتے ہیں کسی بھی ڈیویلپمنٹ ٹیم کا، وہ پلاننگ کرتے ہیں ، ٹریکنگ کرتے ہیں ، ٹیم کے لئے ریسورسز ارینج کرتے ہیں اور ویری امپارٹنٹنلی ، وہ کلائنٹ کے ساتھ جو اپنا ریلیشن شپ ہے اس کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں اپنے کلائنٹ کو وقت بہ وقت کہ پراگریس کیا ہے پراجیکٹ کا سٹیٹس کیا ہے ، یا اگر کسی انفارمیشن کی ضرورت ہے کلائنٹ سے وہ اس سے لیتے ہیں یا پھر اگر کلائنٹ کہتا ہے مجھے کچھ انفارمیشن چاہئے تو وہ اس کو دیتے رہتے ہیں ،
اس کے بعد ہم نے آرکیٹیکٹ کی بات کی تھی کہ آرکیٹیکٹ جو ہے وہ کی ٹیکنیکل گرو ہوتا ہے آپ کے پروجیکٹ کا ۔ یعنی ٹیکنالوجی کے بارے میں جتنے بھی کوئیسچنز ہیں آپ کے پراجیکٹ کے بارے میں ان کا آنسر عموماً آرکیٹکٹ سے لیا جاتا ہے ۔ آرکیٹکٹ صاحب جو ہیں وہ آپ کی ٹیکنالوجی کی سلیکشن بھی کرتے ہیں یعنی اس پراجیکٹ کو کس ٹیکنالوجی کے تحت کیا جائے اس کے علاوہ اس پراجیکٹ کا ہائی لیول ڈیزائن جو ہے وہ بھی ان کی ذمہ داری ہے اور یہ بھی کہ جب وہ پراجیکٹ امپلیمنٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے تو آرکیٹیکٹ صاحب رسپانسیبل ہوتے ہیں اس چیز کے لئے جو پراجیکٹ ہم نے ڈیزائن کیا تھا وہ فالو ہو رہا ہے ؟ ہیپ ہیزرڈ چیزیں تو ہونا شروع نہیں ہو گئیں؟
اس کے بعد ہم نے ٹیم لیڈ کا رول ذکر کیا تھا وہ بھی پلاننگ اور کریکننگ کرتا ہے بٹ ایٹ آ لوئر مائیکرو لیول اور وہ ڈیٹیل ڈیزائن میں بھی انوالو ہوتا ہے ۔ وہ اپنی ٹیم کے اندر جو ہے، ان کی پروفیشنل ڈیویلپمنٹ میں بھی انوالوڈ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ بعض اوقات وہ وہ کچھ ڈیویلپمںٹ ایکٹیویٹیز بھی کرتا ہے یعنی ڈاکیومنٹیشن اور ٹیسٹنگ وغیرہ کا کام بھی کرتاہے لیکن صرف چھوٹی ٹیموں میں ۔ ہم نے ڈیویلپر صاحب کا تذکرہ کیا تھا کہ ڈیویلپر صاحب جو ہیں وہ کوڈنگ کرتے ہیں یہ کوڈنگ سے پہلے ڈیزائن کرتے ہیں اور کوڈنگ کے بعد ٹیسٹنگ کرتے ہیں ۔ اس کےبعد ہم نے جو باقی ٹیمیں ہیں کا تذکرہ کیا تھا۔ ایگزیکٹیو ٹیم کی بات کی تھی، جس کا سب سے امپارٹنٹ ممبر ہوتا ہے شاید چیف ایگیزیکٹیو آفیسر ہوتا ہے اس کے علاوہ چیف آپریٹنگ آفیسر بھی ہوتا ہے جو کہ رسپانسیبل ہوتا ہے ڈے ٹو ڈے آپریشنز کے لئے اور مارکیٹنگ اینڈ سیلز کا بھی ایک چیف آفیسر ہوتا ہے اور ان صاحب کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ کمپنی میں کام لے کر آئیں۔
اس کے علاوہ بزنس ڈیویلپمنٹ کی ایک چھوٹی سی ٹیم ہوتی ہے جو کہ ڈیٹیلڈ پروپوزل بناتی ہے کہ اگر کوئی کلائنٹ کوئی کام کرنا کروانا چاہتا ہے تو اس کو ایک پروپوزل بنا کر دیا جاتا ہے یہ بزنس ڈیویپمنٹ ٹیم کا کام ہوتا ہے جو آرکیٹیکٹس ہوتے ہیں ان کی بھی اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے جسے ہم آرکیٹیچرل ٹیم کہہ سکتے ہیں۔ عموماً یہ بڑی چھوٹی سی ٹیم ہوتی ہے ۔
اس کے بعد ہم نے بات کی تھی کنفگریشن مینیجمنٹ ٹیم کی یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ۔ وہو آر رسپانسیبل فار کیپینگ ٹریک آف ایوری تھنگ دیٹ اس ہیپننگ ، ان آ سینس کے کچھ سافٹ وئیر ڈیویلپ ہورہے ہیں کچھ ڈاکیومنٹ ڈیویلپ ہو رہے ہیں تو آن ڈیلی بیسز دے کیپ ریکارڈ آف آل دوز تھنگز تو یہ کنفگریشن مینیجمنٹ ٹیم کا کام ہوتا ہے ۔ ہم نے پراسیس ٹیم کی بات کی تھی۔ ان کا مقصد بھی یہ ہے کہ کمپنی میں جس طرح سافٹ وئیر ڈیویلپمنٹ ہو رہی ہے جو طریقہ ہے جو پراسیس فالو ہو رہا ہے اس کو بہتر سے بہتر بناتے رہنا جو ہے یہ ان کا مشن ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہم نے کوالٹی اشورینس ٹیم کی بات کی تھی یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو جب کوئی چیز ڈیویلپ ہو جاتی ہے اور درمیانی فیزز میں بھی یہ چیک کرتے ہیں کیا یہ وہ کررہی ہے جو اسے کرنا چاہئے ، تو یہ کوالٹی اشورینس ٹیم کا کام ہوتا ہے ۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی ٹیم جو ہے اس کے بارے میں ہم نے یہ کہا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف نئی ٹیکنالوجیز پراڈکٹس اپراسریز جو ہیں ان کو اویلوایٹ کرتے رہتے ہیں اور ان میں سے جو مناسب ہوتے ہیں ان کو سلیکٹ کرتے ہیں ان میں کچھ ایکسپیرئنس حاصل کرتے ہیں ۔ اوراس کے بعد آرگنائزیشن میں ان نئی ٹیکنالوجیز کو ، ان نئے پراسیجرز کو ، ان نئی پراڈکٹس کو انٹروڈیوس بھی یہی لوگ کرواتے ہیں ۔
آخر میں ہم نے سپورٹ ٹیم کی بات کی تھی ، یہ لوگ رسپانسیبل ہیں ٹو انہانس ٹو مینٹین ، ٹو اپگریڈ دا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر یعنی جو ہارڈوئیر پڑی ہوئی ہے کمپنی میں جو سافٹ وئیر یوز ہو رہی ہے کمپنی میں اس کی اپ کیپ کرنا یہ ان لوگوں کا کام ہے ، اس کے علاوہ ان لوگوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ جو نیٹ ورک کمپنی میں استعمال ہو رہا ہے اس کا خیال رکھیں ، خاص طور پر اس کی سیکیورٹی کا ۔
تو یہ تو تھی کمپیوٹنگ پروفیشنلز کی بات ، پھر ہم نے بات کی تھی ایتھیکس کی ، یعنی ایتھیکس وہ چیزیں ہیں جن کو اگر سب لوگ فالو کرنا شروع کر دیں تو شاید زندگی بہت بہتر ہو جائے زندگی آسان ہو جائے ۔ پروفیشنل ایتھکس ، خصوصاً جو کمپیوٹر سے متعلق ایتھیکس (اخلاقیات ) ان کا بھی ہمیں یہ فائدہ ہے کہ اس سے پروفیشنلز کی زندگی شاید آسان ہو جاتی ہے ۔ان کی فیصلہ سازی میں فائدہ ہو تا ہے۔ تو جناب یہ تو بات تھی پچھلی دفعہ کی۔
آج ہم نے بات کرنی ہے فیوچر کی ، آج ہم نے بات کرنی ہے فیوچر آف کمپیوٹنگ یا کمپیوٹنگ کے مستقبل کی، یعنی کیا ہو گا ؟
وی ول ٹرائی ٹو وژیولائز کہ فیوچر میں کمپیوٹرز کیسے ہوں گے نہ صرف یہ بلکہ کمپیوٹر ز کیسے استعمال ہوں گے اور ان کا ہم پہ ہماری مستقبل کی زندگی پر ان کا کیا امپیکٹ یا اثر ہو گا۔
لہذا آج کا موضوع دا فیوچر آف کمپیوٹنگ (کمپیوٹنگ کا مستقبل ) ۔
اس سے پہلے کہ میں آپ کو مستقبل کے بارے میں اپنی پرڈیکشنز کے بارےمیں بتاؤں ایک چیز بتاتا چلوں کہ کمپیوٹنگ کا فیلڈ اور ٹیلی کمیونیکیشن کا فیلڈ یہ دونوں جو ہیں یہ کنورج کرتے جارہے یہ دونوں جو تھے یہ اب ایک ہوتے جارہےہیں وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں میں فرق کرنا کہ یہ ایکٹیویٹی کمپیوٹنگ کی ہے یا ٹیلی کمیونیکشن کی، یہ ذرا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔تو اگر ہم نے کمپیوٹنگ کے مستقبل کی بات کرنی ہے ساتھ ہمیں ٹیلی کام کی بھی بات کرنی پڑے گی کیونکہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ انٹیگریٹڈ ہیں اور مستقبل میں یہ ایک ہو جائیں گے۔ (دے آر انٹیگریٹڈ ود ایچ ادر اینڈ ان فیوچردے ول بکم ون) تو آج جو ہم باتیں کریں گے ، ہم کمپیوٹنگ کے ساتھ ساتھ ، ٹیلی کام کے فیوچر کی بھی باتیں کریں گے ۔
پہلی چیز جس کے بارے میں آپ کو بتانا چاہوں گا اور یہ میرے خیال میں آج سے پندرہ بیس سال کے بعد ہو جائے گی وہ یہ کہ میرا ایک پرسنل کمیونیکیٹر ہو گا ۔ میرا یہ پرسنل موبائل کمیونیکیٹر جو ہو گا اسے میں کیری نہیں کروں ، یہ میری باڈی کے اندر ہے امبیڈ ہوگا، مائیکرو فون بھی میرے جسم میں ہو گا، سپیکر بھی اس کا میرے جسم میں ہی کہیں ہو سکتا ہے کہ کہیں ہو۔ اس کا انٹر فیس جو ہو گا وہ وائس کے ذریعے ہو گا ، یعنی اس کو کنٹرول میں وائس یعنی آواز کے ذریعے کروں گا ۔ تو اگر میں نے اس سے کچھ کام کروانا ہو گا تو میں اس کہوں گا تو یہ کرے گا، مثلاً میں اس سے کہوں گا کہ فلانے صاحب کو فون ملائیں تو یہ اسے فون ملا کر دے گا یا فلانے صاحب کی اگر کال آئے تو مجھے ڈسٹرب نہ کرے، تو یہ اس کا وائس اونلی انٹرفیس ہو گا اس کے بارے میں بڑی دلچسپ چیز یہ ہو گی کہ میں جب اس سے بات کروں گا تو اردگرد والے لوگ شاید اسے نہ سن سکیں ، کیونکہ میں تھوڑا مدھم آواز میں بات کروں گا۔ اس کا مائیکرو فون میرے جبڑے کے اندر میرے خیال میں لگا ہو گا تو میں بس ایسے ہی کھڑے ہو کر جس طرح بعض اوقات لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کے ہونٹ ہل رہے ہوتے ہیں ان کی آواز نہیں آرہی ہوتی اس قسم کا میں کچھ بولوں گا تو وہ مائیکرو فون سمارٹ انف ہو گاکہ وہ اس کو ڈیٹیکٹ کر سکے اور اس کو انڈرسٹینڈ کر سکے اور اس کو ٹرانسمٹ کر سکے۔ اس کے بعد یہ تو بات ہو گی پندرہ بیس سال کی ، لیکن اس سے بھی لانگر ٹرم میں مجھے یہ بھی نہیں کرنا پڑےگا ، آئی ول تھنک تھنگز میں سوچوں گا اور یہ میرا پرسنل موبائل کمیونیکٹر جو ہے یہ اسے انڈرسٹینڈ کرے گا اس طرح اگر میں اس موبائل کمیونیکٹر کے ذریعے کسی سے کوئی کمیونیکشن کر رہا ہوں گا جو صاحب نیویارک میں بیٹھے ہیں ہو سکتا ہے کہ آج سے پچاس سال کے بعد مجھے بولنا نہ پڑے ، میں صرف سوچوں گا ، یہ کمیونیکٹر میری سوچ کو پک کرے گا اس کو ٹرانسمٹ کرے گا اور اسی طرح وہاں سے جو سگنل آئے گا اس کو کسی ایسی فار م میں کنورٹ کرے گا جے میں انڈرسٹینڈ کروں ، ود آؤٹ ہیئرنگ ۔
یعنی یہ جو میری ٹرانسمنشن آف انفارمیشن ٹو مائی مائنڈ ول بی سم تھنگ ایلس ، ادر دن اٹ از ناؤ ڈیز ۔ تو یہ میرا پرسنل موبائل کمیونیکٹر ہے ، اس کے لئے کن کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہو گی اس کے لئے ظاہر ہے مائیکرو منی ایچر کمپونینٹس چاہیے ہوں گے مائیکرو ٹرانسمٹرز ، ریم چاہئے ہو گی اس کے لئے ہمیں روم چاہئے ہو گی بہت ہی چھوٹی سی اور دوسرا یہ کہ اس کے لئے ہمیں چاہئے ایک ایسی ٹیکنالوجی جو نیچرل سپیچ کو سمجھ سکے ۔ تو یہ دونوں چیزیں اور ٹیکنالوجیز آج کل موجود ہیں ان کو بس ذرا بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ تو میرا خیال ہے آج سے پندرہ یا بیس سال کے بعد یہ چیزیں یعنی باڈی ایمبیڈڈ کمیونیکٹرز دے ول بی کوائٹ پاپولر ۔
ایک چیز اور بھی جس کےبارے میں ہم سوچ سکتے ہیں وہ یہ کہ موبائل ویڈیو فونز ، کہ وہ کب پاپولر ہوں گے ۔ میرا خیال ہے وہ کبھی پاپولر نہیں ہوں گے، آج سے دو سے پانچ سال کے بعد ہو سکتا ہے کہ وہ اویل ایبل ہوجائیں ، لیکن میرے خیال میں اسے زیادہ لوگ استعمال نہیں کریں گے کیونکہ اسے استعمال کرنے کے لئے یہ جو اسے ادیکھنا پڑتا ہے میرا خیال ہے لوگوں کے لئے یہ شاید آسان نہ ہو۔ میرا خیال ہے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ چلتے پھرتے رہیں اور اپنی آرام سے بات چیت کرتے رہیں ۔ودآؤٹ ٹیکینگ دئیر آئیز آف وٹ ایور دے آر ڈوئنگ ۔
تو یہ موبائل ویڈیو فون کے لئے ٹیکنالوجی تو اب بھی اویل ایبل ہے ۔ اس کے لئے انفراسٹرکچر ابھی شایدموجود نہیں ہے لیکن وہ آہستہ آہستہ عام ہوتا جائے گا ۔ اور پھر زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔ تو آج سے پانچ سال کے بعد موبائل ویڈیو فونز دے ول بی پاسیبل بٹ ناٹ مینی پیپل ول بی یوزنگ دیم ۔
ایک اور چیز جو فیوچر میں ، میں دیکھتا ہوں دس سال میں ہو، پندرہ میں ہو، وہ یہ کہ میرا ایک پرسنل ایجنٹ ہو گا یہ ایک روبوٹ نہیں ہوگا ۔ یہ ایک کمپیوٹر پروگرام ہو گا ، اور اگین کے اس کے ساتھ بھی میں انٹرایکٹ آواز کے ذریعے سے ہی کروں گا، اور بھی ذرائع ہوں گے اس سے بات کرنے کے لیکن مینلی میں اس سے آواز کے تھرو ہی بات چیت کروں گا اور یہ اٹانومس ہو گا ، یعنی اس کو اگر معمولی سی ڈائریکشن دے دیں تو یہ خود سے اچھا خاصا کام کر سکتا ہے ۔ اٹ ول بی اٹانومیس ۔ پانچ دس سال میں بھی اس کا ہونا پاسیبل ہے ۔ مزے کی بات اس کے بارے میں یہ ہو گی کہ آئی ول ہیو کنورسیشن ود اٹ، یہ جو سافٹ وئیر ہو گا اس کے ساتھ میں بات کرسکوں گا اور اس کے ساتھ میں انٹیلیجنٹ کنورسیشن کر سکوں گا ۔ مثلاً یہ کہ میں اسے کہوںگا کہ جناب میں دو ٹکٹس چاہئیں ہانگ کانگ کے لئے میں نے صبح جانا ہے ۔ اچھا یہ موبائل ایجنٹ جو ہے اسے پتہ ہے کہ میں کہاں ہوں ، اسے مجھے یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ میں اس وقت کہاں ہوں ، میں فرانس میں ہوں یا لاہور میں بیٹھا ہوں اسے پتہ ہے کہ مجھے سٹارٹ کہاں سے کرنا ہے ، اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ مجھے ائیرلائنز کون سی پسند ہیں ۔ اس کے پاس میری کریڈٹ کارڈ کی انفارمیشن بھی ہے ، لیکن اسے یہ نہیں پتہ کہ میں نے واپس کب آنا ہے تو یہ مجھ سے پوچھ لےگا کہ بھائی جان واپس کب آنا ہے اور وہاں پر ہوٹل وغیرہ کا انتظام کروا دیں یا نہ کروائیں ۔ سو یہ معلومات لے کر یہ میرے کام کرے گا اور جب یہ بکنگ ہو جائے گی تو یہ مجھے بتا بھی دے گا کہ جناب کنفرم ہو گیا سب کچھ ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ میں اسے کہہ سکوں گا کہ بھائی آئی ایم ڈپریسڈ ، یا پھر ام ٹائرڈ، ام بورڈ، یا پھر آئی ایم اینگری ، یا پھر آئی ایم فیلنگ سک ۔ ایسی چیزیں جب میں اس سے کہوں گا تو یہ اس کے رسپانس میں اپرپری ایٹ ایکشن لے سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر میں اسے کہوں گا کہ آئی ایم فیلینگ سک ، تو میرے سے ایک دو چھوٹے موٹے سوال پوچھے گا اور اس کے بعد یہ ڈاکٹر سے میری اپوائنٹ منٹ سیٹ کر دے گا جب یہ مجھ سے سوال کرے گا ، میری بیماری کے بارےمیں مجھ سے سوالات کرے گا تو اس کے بعد اسی مناسبت سے اپرپری ایٹ ڈاکٹر سے میری اپوائنٹ منٹ سیٹ اپ کردے گا اور وہ سیٹ اکس طرح کرے گا، وہ جو ڈاکٹر صاحب ہیں ان کا پرسنل ایجنٹ جو ہے اس سے جا کر بات کرے گا کہ بھائی جان، ایک مریض کو دکھانا ہے ، اور اس سے اپوائنٹ منٹ سیٹ کر کے یہ مجھے بتا دے گا ، اور اس میں یہ خوبی بھی ہو گی کہ جوبعض ایونٹس فیوچر میں میں نے کرنے ہیں ان کا یہ ایک ٹریک رکھے گا اور جب ان کی باری آئی گی تو یہ مجھے بتا دیا کرے گا کہ آدھے گھنٹے میں آپ کی اپوائنٹمنٹ ہے یہ مجھے اپ ڈیٹڈ بھی رکھے گا نیوز کے بارے میں ، سپورٹس کے بارے میں ، موسم کے بارے میں ، سٹاک کے بارے میں یہ مجھے بتاتا رہے گا کہ میری جو انٹرسٹ کی چیزیں ہیں ان کے بارے میں یہ انفارمیشن حاصل کر کے مجھے بتاتا رہے کہ اب یہ ہو گیا اور یہ گیا یہ اپ ڈیٹ ہے ۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہ یہ جو میرا پرسنل کمیونیکٹر ہے اس کے ذریعے جب میں کمیونیکیشن کررہا ہوں گا کسی اور صاحب سے ہو سکتا ہے کہ میں پارک میں چل پھر رہا ہوں ، یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں کمپیوٹر کے پاس بیٹھا ہوں ۔ تو اگر میں اپنے کمپیوٹر کے پاس بیٹھا ہوں ایجنٹ صاحب کو پتہ ہو گا ۔ تو اف پاسیبل کہ وہ جو دوسری پارٹی اور میں جو بیٹھا ہوں یہ ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں کے درمیان یہ ایک ویڈیو لنک کو قائم کر دے اور وہ ویڈیو میرے مانیٹر پر آنا شروع ہو جائے ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی انٹرسٹنگ نیوز آتی ہے تو یہ اس کے بارے میں تھوڑا سا مجھے بتائے گا بھی لیکن اس نیوز کے ساتھ کوئی ویژیول ہے تو یہ کمپیوٹر کی مدد سے یا اگر کوئی مانیٹرا یا ٹیلی ویژن میرے سامنے پڑا ہے تو ہو سکتا ہے یہ مجھے وہ ویژیویل بھی دکھا دے گا ۔ تو یہ اوئیر ہو گا کہ میں کہاں ہوں اور میرے اردگرد اس وقت کیا ہے اور اس کے مطابق یہ اپروپری ایٹ ایکشنز لیا کرے گا۔ اس کے لئے بھی ہمیں کانٹنیوئس سپیچ ٹیکنیشن کے لئے ایک ٹیکنالوجی چاہئے جو ایک مناسب فارم میں اس وقت موجود ہے لیکن پانچ سال میں وہ اور بھی بہتر ہو جائے اور دوسرا یہ کہ میں ایک سافٹ وئیر چاہئے جو اٹانومیسلی کام کر لے ، اس پر بھی کام ہو رہا ہے اس پر بھی ریسرچ ہو رہی ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بھی پانچ سے دس سال میں خاصی میچیور ہو کر ہمارری دسترس میں آ جائے ۔ تو میں دیکھتا یہ ہوں کہ آج سے پندرہ سال کے بعد یہ جو پرسنل ایجنٹس والا جو آئیڈیا ہے ، یہ خاصا پاپولر ہو جائے گا۔
آپ سے کچھ عرصہ پہلے بات ہوئی تھی ویب کی ایک ویکنس کی ، ہم نے یہ کہا تھا کہ شاید تیسرے لیکچر میں کہ ویب میں ایک خوبی جو ہے کہ اس میں بہت ساری انفارمیشن اویل ایبل ہے یہ خامی یہ ہے کہ یہ انفارمیشن جو ہے وہ فارمیٹ کی گئی ہے وہ رکھی گئی ہے اس طرح کہ ہیومنز اسے آسانی سے انڈرسٹینڈ کر سکے ۔ لیکن یہ جو پرسنل ایجنٹ ہے ، یہ تو ہیومن نہیں ہے ، اسے بھی انٹرنیٹ سورسز کی ضرورت ہے ،تا کہ یہ مختلف ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کر سکے تو اس لئے ہم نے سمینٹک ویب کی بات کی تھی ۔ یعنی سیمنٹک ویب ، ویب کی وہ فارم ہے وچ از ایزی لی کامپریہیسیو ایبل فار کمپیوٹرز ، اگر صرف ٹیکسٹ لکھی ہو تو وہ ہیومنز کے لئے شاید آسان ہے لیکن وی ہیو برنگ سم نیو ان ٹو دیٹ ٹیکسٹ ، اگر میرا نام لکھا ہے تو میں تو یہ انڈرسٹینڈ کر سکتا ہوں کہ یہ نام لکھا ہوا ہے لیکن کمپیوٹر کو تو نہیں پتہ نا کہ یہ نام ہے یا کچھ اور لکھا ہوا ہے ۔ توا س کو میننگ فل وے میں ہم اس طرح لکھیں گے کہ نیم از ایکوئیل ٹو کمپیوٹر ۔ وہ ہم ہیومن کو نہیں دکھائیں گے ، وہ بیک گراؤنڈ میں ہو گا لیکن کمپیوٹر جب اس پیج کو وزٹ کرے گا وہ دیکھے نیم از ایکویل ٹو دس ۔اسے پتہ ہے کہ نیم کیا ہوتا ہے تو اسے پتہ لگ جائے گا کہ اس پیج پر جن صاحب کی بات ہو رہی ہے ان کا نام یہ ہے ۔ سو فیوچر کا ویب جو ہو گا اس میں کمپیوٹر کے لئے میننگ ایمبیڈ ہو گا اور اسے ہم کہتے ہیں دا سمینٹک ویب۔ یعنی وہ ویب جو ڈیزائن کیا گیا ہے اس لئے کہ اس کا کانٹینٹ جو ہو وہ ایزیلی کامپریہینسبل ہو کمپیوٹرز کے لئے بھی ۔ اور یہ جو سمینٹک ویب ہو یہ آج کے ویب کو ریپلیس نہیں کرے گا بلکہ اس کی ایکسٹینشن ہو گی ، سو آج والا ویب جو ہے یہ رہے گا اور یہ بھی گرو کرے گا لیکن اس کے ساتھ جو نئی ایکسٹینشن ہے وہ بھی گرو کرنا شروع کر دے گی۔
اینڈ دس از آلریڈی ہیپننگ۔ لیکن میرے خیال میں آج سے دس سے پندرہ سال تک ، سمینٹک ویب خاصی حد تک اہمیت پا چکا ہو گا اس کی گروتھ خاصی زیادہ وہ چکی ہو گی ۔
کمپیوٹرز جناب وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہوتے جارہے ہیں ۔ زیادہ تیز ہوتے جارہے ہیں ۔ زیادہ ایفیشنٹ ہوتے جارہے ہیں ، زیادہ پاور نہیں کھاتے اور زیادہ سستے بھی ہوتے جارہے ہیں ۔ دس ٹرینڈ ول کنٹی نیو۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا ، ایٹ لیسٹ فار دا نیکسٹ ٹین ٹو ٹوینٹی ائیرز یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ اب ہو گا یہ دس سال کے بعد آپ دیکھیں گےآج کل کا جو بہترین سپر کمپیوٹر ہے ، اتنا ہی پاور فل اور بہترین کمپیوٹر آپ کو ایک اینٹ کے سائز میں مل جائے گا ۔یعنی جتنا ایک اینٹ کا سائز ہوتا ہے اتنے سائز میں آپ کو ایک سپر کمپیوٹر مل جائے گا اور اس کی پاور آج کل کے کمپیوٹر سے بہتر ہو گی ۔ دس سال ، زیادہ نہیں ۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ فیوچر میں شاید اس کمپیوٹر کی اتنی اہمیت نہ ہو جتنی آج کل ہے ، کیونکہ مستقبل میں یہ چیزیں کہ سائز چھوٹا ہو گیا یا ایسا کچھ ارریلینٹ ہو جائیں گی، کیونکہ ہو گا یہ کہ آپ کمپیوٹر خریدا نہیں کریں گے ، آپ ایک اور طریقے سے کمپیوٹر استعمال کیا کریں گے ۔ اس کے لئے میں مثال دیتا ہوں آج کل کی بجلی یا الیکٹرک پاور سورس کا، گھروں میں جو بجلی آتی ہے دیکھئے جب آپ کوئی نیا ائیر کنڈیشنر خریدتے ہیں تو اس کے ساتھ آپ کو الگ سے نیا پاور پلانٹ تو نہیں لگاتے جو اس کو چلائے ۔ آپ صرف اسے پلگ اٹ ان۔ آپ کی بجلی ضرورت بڑھ گئی ہے کیوں کہ آپ نے ایک نیا اے سی خریدا ہے لیکن ضرورت بڑھ جانے پر آپ کو نیا پاور پلانٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ یہ الیکٹرک پاور سپلائی کا سسٹم ایسا بنا ہوا ہے کہ آپ کو بجلی ضرورت بڑھتی ہے تو آپ صرف پلگ ان کرتے ہیں ۔اس سے ہوتا صرف یہ ہے کہ آپ کا بل بڑھ جائے گا لیکن آپ کو الگ سے نیا پاور سیٹ اپ نہیں لگانا پڑے گا۔
کمپیوٹنگ بھی اسی طرف جا رہی ہے ۔ کمپیوٹنگ بھی پاور کی طرح ہماری جانب فلو کیا کرے گی ۔ آج کل اگر میں کچھ کام کر رہا ہوں اور میری کمپیوٹنگ کی ضروریات میرے ریسورسز سے بڑھ جاتی ہیں ، یعنی جس طرح کے کمپیوٹر میرے پاس ہیں وہ ، وہ کام نہیں کر پاتے جو میں کروانا چاہتا ہو ں ، مجھے زیادہ پاور فل کمپیوٹر چاہئے تو میں کیا کرتا ہوں ؟ میں جا کر ایک مزید پاور فل کمپیوٹر خرید لیتا ہوں۔
مستقبل میں ایسا نہیں ہو گا، فرض کریں کہ میں چھوٹے موٹے اکاؤنٹنگ کے کام کر رہا تھا ، اچانک ہی میں بڑے ہی عظیم پیمانے پر ڈیٹا مائننگ کا کام شروع کر دیتا ہوں ، تو میرا کمپیوٹر تو کام نہیں کرے گا لیکن فیوچر میں ایسا نہیں ہوگا ، فیوچر میں ایسا ہو گا کہ اگر میں زیادہ کمپیوٹنگ پاور استعمال کرنا شروع کردیتا ہوں تو مجھے الگ سے نیا کمپیوٹر نہیں خریدنا پڑے گا ۔ میرے دور کچھ کمپیوٹر پڑے ہوں گے ان پر میرا سارے کا سارا کام پڑا ہو گا ، اور ہو گا یہ اگر میں ان کو زیادہ استعمال کر رہا ہوں تو میرا جو کمپیوٹر یوزیج کا بل ہے وہ بڑھ جائے گا، لیکن مجھے نئی ہارڈوئیر نہیں خریدنا پڑے گا ۔ میرے پاس وہی پرانا سا کمپیوٹر ہو گا جس پر میں پہلے اکاؤنٹنگ کا کام کر رہا تھا۔ اب میں ڈیٹا مائننگ کر رہا ہوں تو میرے پاس وہی چھوٹا سا ٹرمینل موجود ہے میں اسی پر اپنے سارے کام کررہا ہوں ۔ لیکن کمپیوٹنگ پاور اب میں زیادہ استعمال کر رہا ہوں تو اسی لئے کمپیوٹنگ پاور کے لئے میرا بل بڑھ جائے گا مگر نئی ہارڈ وئیر خریدنے کا خرچ مجھے نہیں کرنا پڑے گا۔
یعنی مطلب اس کا یہ ہوا کہ انفینیٹ سپلائی ، تقریباً انفینٹ کمپیوٹنگ سپلائی ول بی اویل ایبل ٹو می۔
وہ ریلائی ایبل ہو گی مجھے اس کی مینٹیننس وغیرہ بھی نہیں کرنا پڑے گی، بالکل اس طرح جیسے ہمارا بجلی ، پانی اور فون کا نظام ہے بالکل اسی طرح ریلائی ایبل مینٹننس فری اور میں صرف اتنی ہی پاور کے لئے بل پے کروں گا جتنی میں استعمال کر رہا ہوں ۔ اگر مجھے سال میں ایک دن بہت زیادہ کمپیوٹنگ پاور چاہئے ہوتی ہے اور باقی سارا سال مجھے اتنی زیادہ پاور نہیں چاہئے ہوتی بلکہ مجھے بہت چھوٹا موٹا کام کرنا ہوتا ہے تو آج کل تو مجھے اس کے لئے بڑا سا کمپیوٹر خرید کر سارا سال رکھنا پڑتا ہے کام میں اس سے ایک دن لیتا ہوں لیکن مجھے اسے سارا سال رکھنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں ایسا نہیں ہو گا مستقبل میں کمپیوٹنگ جو ہو گی وہ ذرا مختلف طریقے سے مجھے اویل ایبل ہو گی۔
یعنی اس کا انفراسٹرکچر اور اس کا ہارڈ وئیر میں اپنے پاس نہیں رکھوں گا ۔ میں بلکہ اس کمپیوٹنگ پاور کو اسی طرح استعمال کروں گا جیسا آج کل میں بجلی کو استعمال کرتا ہوں ۔ اور میں صرف اتنی کمپیوٹنگ پاور کے لئے پے کروں گاجتنا میں استعمال کروں گا ۔ تو وہ ایک دن جس دن مجھے زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوگی میرا بل بڑھ جائے گا ۔ باقی دن میرا بل ویسا کا ویسا ہی رہے گا۔ اور جناب سٹوریج کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ یعنی اگر میری سٹوریج کی ضرورت بڑھتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ایک زبردست قسم کی ہارڈ ڈسک خریدنا شروع کر دوں ۔
فیوچر میں یہ سٹوریج میرے پاس نہیں کہیں اور ہو گی اور میں اسے جتنا استعمال کروں گا مجھے اتنے ہی پیسے دینا پڑیں گے اگر میں کم استعمال کروں گا تو میرا بل کم آئے آگ اور اگر میں زیادہ استعمال کروں گا تو میرا بل بھی اسی حساب سے زیادہ آئے گا۔

یہاں اب ہم بات کریں گے کمپیوٹر ٹرمینلز آف دا فیوچر کی ۔ پہلا سوال جو کمپیوٹر ٹرمینل اور سپیشلی فیوچر کے بارے میں وہ یہ کہ کیا مستقبل میں کمپیوٹر ٹرمینلز ہوں گے ؟ ہو سکتا ہے کہ سارے سارے مستقبل کے کمپیوٹر ہڈن ہوں میں چلتے پھرتے میں ان کے ساتھ گپ شپ کرتا رہوں لیکن میں کوئی کی بورڈ یا ماؤس استعمال نہ کر رہا ہوں یا پھر میں اگر کسی ٹیلی ویژن کے پاس سے گزرتا ہوں تو اس پر میرا کمپیوٹر مجھے ڈسپلے دینا شروع کر دیتا ہے جس کی مجھے ضرورت ہو۔ لیکن ہو سکتا ہے کمپیوٹر ٹرمینلز ہو سکتا ہے نہ ہوں /
فیوچر میں ہو سکتا ہے آج کل کے کمپیوٹر ٹرمینلز کی طرح کمپیوٹر ٹرمینلز نہ ہوں ۔
فرض کریں کہ ہوں ، اگر وہ ٹرمینلز ہوئے بھی تو ان کی فارم آج کل کے کمپیوٹر ٹرمینلز کے مقابلے میں کافی مختلف ہو گی ۔ میرے خیال سے کی بورڈ نہیں ہوں گے ۔ جو کمپیوٹر سے میرا انٹر فیس ہو گا وہ وائس یا آواز کے ذریعے ہو گا،یا تو میرا انٹرفیس آواز کے ذریعے ہو گا یا پھر کمپیوٹر کی جو سکرین ہو گی وہ ٹچ سنسیٹیو ہو گی ، تو میں ٹچ کے ذریعے مختلف چیزیں اس پر کر سکوں گا۔ لیکن میرے خیال میں جو زیادہ نیچرل انٹرفیس جو مجھے لگتا ہے وہ یہی وائس انٹرفیس والا ہے ۔مثلاً اگر میں نے کسی کو ای میل لکھنی ہے تو میں یہ کہوں گا کہ چلو بھی خط لکھوں ، ہو سکتا ہے کہ فیوچر میں ای میل یا خط بالکل ختم ہی ہو جائیں اگر یہ جو وائس کمیونیکشن اتنی آسان ہو جائے کہ ای میل اور خط وغیرہ منظر عام سے غائب ہو جائے۔
تو اگر آپ آج سے دس سال کے بعد کمپیوٹر ٹرمینلز نہ ہوں اور اگر ہوئے بھی تو ان کا انٹرفیس جو یے وہ ہو سکتا ہے وہ وائس یا ٹچ سکرین کے ذریعے ہو گا۔
یہ میں سوچتا ہوں کہ دس سال کے بعد یہ ہو جائے گا۔ اس سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ٹیکنالوجی موجود ہے بس اس کو ذرا بہتر بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کے آگے ہو سکتا ہے پچاس سال کے بعد وائس انٹرفیس کی بجائے وہ تھنکنگ والی انٹرفیس جو کہ میں سوچوں گا اور کمپیوٹر اس کو معلوم کر لے گا اور اس کے مطابق عمل کرے گا یعنی کمیونیکشن ٹیلی پیتھک ہو گی ۔
فیوچر کے ڈسپلیز کےبارے میں بات کر لیں لیکن اس سے پہلے آج کل کے ڈسپلیز کے بارے میں بات کر لیں کہ آج کل جو ڈسپلییز ہیں جو سی آر ٹیز اور کیتھوڈ ریز کے بڑے بڑے گرم گرم ہوا نکالنے والے ٹی وی ویز ختم ہو رہے ہیں ان کی جگہ پر ایل سی ڈیز لے رہی ہیں جو پاور بھی زیادہ خرچ نہیں کرتیں ، ان کی ریڈی ایشن بھی نہیں ہوتی ۔ سائز بھی چھوٹا اور قیمت بھی و قت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہے ۔ تو فیوچر میں سارے ڈسپلے ایل سی ڈی کی طرح کےہوں گے یا اس میں مذید کوئی جدت آئے گی۔
نہیں ، ایل سی ڈی ڈسپلیز جو آج کل کے ہیں ، وہ ٹو ڈی ہیں یعنی ٹو ڈائمنشنل ہیں ۔ میرے خیال میں فیوچر میں تھرڈ ڈائمنشن بڑے پیمانے پر نظر آنا شروع ہو جائے گی ۔ فیوچر کے ڈسپلیز میں تینیوں ڈائمننشز آپ کو دکھائیں گے۔ ہو سکتا ہے اس کے لئے آپ کو کچھ گاگلز پہننا پڑیں یا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ڈسپلے کچھ اس طرح کے ہوں کہ وہ آپ کے ریٹینا پہ امیج لکھتے جائیں۔
آپ کو پتہ ہے کہ ریٹینا تو جو ہے وہ ٹو ڈائمنشنل ہے لیکن دونوں ریٹیناز کو اگرتھوڑی سی مختلف سی طرح سوچ سمجھ کر انفارمیشن لکھی جائے تو ہمیں احساس یہ ہوتا ہے کہ ہم تھری ڈی امیجز دیکھ رہے ہیں لہذا فیوچر کے ڈسپلیز تھری ڈی ہوا کریں گے۔
آئے اب بات کرتے ہیں سٹوریج کی ۔
میگنیٹک سٹوریج ٹیکنالوجی جو ہے وہ میرا خیال ہے ہمارے ساتھ ایک لمبے عرصے تک رہے گی ۔
میرے خیال میں اگلے دس سے بیس سال ہمارے ساتھ رہے گی اس کی ڈیٹا ٹینڈنسٹیز وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی رہیں گی اس کا مطلب یہ ہے کہ اماؤنٹ آف ڈیٹا جو ہم ان پر سٹور کرتے ہیں اس کا پر یونٹ ایریا یا پر یونٹ والیوم یہ بھی وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی۔ دس بیس سال تک یہ بڑھتی رہے گی۔
آپٹیکل سٹوریج ٹیکنالوجی بھی مزید بہتر سے بہتر ہوتی رہے گی آج کل جو بہترین ٹیکنالوجی ہے وہ بلیو رے ڈی وی ڈی کہا جاتا ہے اس میں ایک ڈسک پر پچاس گیگا بائٹس تک سٹور کیا جا سکتا ہے ۔ تو دس بیس سال کے بعد یہ چیز بھی امپروو ہوتی رہے گی۔ لیکن دئیر از اے پرابلم ود دیز میگنیٹک سٹوریج میڈیا اور یہ جو آپٹیکل سٹوریج میڈیا ہے ان کی بات کرتے ہیں کہ یہ بنیادی طور پر مکینکل ہیں تو کیونکہ یہ مکینکل ہیں اس لئے ان کی سپیڈ ایک حد سے زیادہ تیز نہیں ہو سکتی اور کمپیوٹر بہت تیز ہوتے جاریے ہیں لہذا ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ اتنے سلو ہو جائیں گے کہ ان کمپیوٹرز کے ساتھ انہیں استعمال کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ جو انارموس ڈیٹا جنریٹ ہونا شروع ہو گیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جس میں اضافہ ہوتا جائے گا یہ اس کو بھی شاید ہینڈل نہ کر سکیں ۔
یعنی جو کپیسٹی ریکوائرنمنٹس آف دا فیوچر ہیں دے مے ناٹ بی میٹ بائی دیز میگنیٹک سٹوریچ ڈوائیسز یا آج کل کی جو آپٹیکل سٹوریج ڈایوائسز ہیں ان میڈیا میں شاید اتنی طاقت نہ ہو کہ وہ ان کو ہینڈل کر پائے۔ دوسری آپشن ہمارے پاس جو ہے وہ سیمی کنڈکٹر میموری کی ہے ۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ تیز اور سستی ہوتی جارہی ہے لیکن وہ ابھی تک مگنیٹک سٹوریج کے مقابلے میں بہت مہنگی ہے ابھی تک پرائس اوور کپیسٹی کو وہ بیٹ نہیں کر سکی۔
لہذا سیمی کنڈکٹر میمیوری ول ناٹ ریپلیس میگنیٹک میڈیا۔ یہ نہیں ہونے جا رہا ۔
تو جناب ڈکس سلو ہے اور ریم جو ہے وہ مہنگی ہے کیا کریں ؟
کیا ہو گا ؟ ہو گا یہ کہ ایک عجیب و غریب سی ٹیکنالوجی جس کے بارے میں ابھی ہم نے سوچا بھی نہیں جس کے بارے میں ابھی ہمیں پتہ بھی نہیں وہ شاید سٹوریج کو ڈامینیٹ کرنا شروع کر دے پندرہ بیس سال میں ۔ اس میں ایک پاسیبلٹی جو مجھے لگتا ہے وہ ہے ہولو گرافک سٹوریج کی ہے ۔ ہولو گرافک سٹوریج میں جو دلچسپ کیپی بلٹی ہے وہ ہے سٹوریج ان تھری ڈائمنشنز۔ آج کل جو ہم سٹوریج میگنیٹک ڈسک پر کرتے ہوں وہ ایک سرفیس پر ہوتی ہے ۔آپٹیکل میں تھوڑا اسا اس سے زیادہ ہم جا سکے ہیں لیکن وہ بھی بنیادی طور پر ایک سرفیس ٹیکنالوجی ہے لیکن یہ جو ہولو گرافک میموریز ہوں گی فیوچر کی یہ تھری ڈائمنشنل ہوں گی۔ ان میں ڈیٹا جو سٹور کیا جائے گا وہ ہو گا آپٹیکلز میٹیریلز میں اور کس طرح کیا جائے گا لیزرز کی مدد سے کیا جائے گا،۔ لیزر کی مدد سے سٹور کیا جائے گا اور لیزر کی مدد سے اسے استعمال کیا جائے گا۔ تو یہ جو تھری ڈی نیچر ہے اس سے اس کی جو کپیسٹی آف سٹوریج کافی زیادہ ہے ۔ خصوصاً ڈیٹا ٹینڈینسی جو ہے یعنی اماؤنٹ آف ڈیٹا پر سینٹی میٹر کیوب وہ کافی زیادہ ہو گی آج کل کے سٹوریج میڈیا کے مقابلے میں ۔ اور یہ بھی کہ ان میں بعض سٹوریج ریڈ اونلی ہو گی اور بعض ریڈ رائٹ بھی ہو گی اور ظاہر ہے جو ریڈ اونلی سٹوریج ہے جیسا آج کل بھی ہوتا ہےاور فیوچر میں بھی ہو گا کہ جو ریڈ اونلی سٹوریج ہے اس کی کپسیٹ زیادہ ہوتی ہے بنسبت ریڈ رائٹ کے۔
تو جناب ڈیٹا ٹینڈنسی تو اس میں بہت عظیم ہو گی۔ اور اس میں جو ڈیٹا ریڈ کیا جائے گا اور جو ڈیٹا رائٹ کیا جائے گا وہ لیزرز کے ذرہعے کیا جائے گا ۔ یہ ٹیکنالوجی آج کل تجرباتی طور پر تو موجود ہے لیکن اس کی تجارتی بنیادوں پر استعمال اور اویل ایبل ہونے میں کم از کم دس سال لگیں گے۔ تو اگین ڈیٹا ٹینڈینسی ہولو گرافک میموری سٹوریج میں بہت زیادہ ہو گی ہو سکتا ہے کہ یہ ملینز آف ٹائمز آج کل کے مقابلے میں زیادہ ہو۔
نیکسٹ ہم بات کرتے ہیں ڈیٹا ٹرانسمشن کی۔ فیوچر میں ہمارے گھر اور دفاتر انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہوں گے ، تھرو آپٹیکل فائبر یا پھر فری سپیس آپٹکس اس کے ذریعے سے کنیکٹ ہوں گے ۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر جو ڈیوائس ہو گی ہمارے آفس کے اندر جو ڈیوائس ہوں گی وہ ایک دوسرے سے وائرلیس کے ذریعے کمیونیکیٹ کریں گی۔ اب ہمارے گھر میں بہت ساری ڈیوائسز ہوں گی جن کا ذکر ہم آگے کریں گے، آپس میں وائرلیس کے ذریعے کمیونیکیٹ کریں گی۔ اب انٹرنیٹ کا کنیکشن جو آرہا ہے ہمارے گھر کے اندر اس سے بھی وہ وائرلیس کے ذریعے کمیونیکیٹ کریں گی۔
اور بٹ ریٹس جو اس زمانے کے ہوں گے آج سے دس سال کے وہ آج کل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔آج کل تو گھر میں فور کے کا بٹ ریٹ بہت عظیم تصور کیا جاتا ہے مگر فیوچر میں مینی مینی آرڈرز اور آف میگنیچیوڈ کے بٹ ریٹس ہمیں اویل ایبل ہوں گے۔
اب ہم بات کرتے ہیں فیوچر کے فلی کنیکٹڈ ہاؤس کی ۔ فیوچر کا جو ہاؤس ہو گا اس میں وال ٹو وال کمپیوٹرز ہوں گے۔ لیکنن وہ سارے کے سارے ہڈن ہوں گے۔ ان کے کی بورڈ اور ماؤس نہیں ہوں گے۔ ان کے ساتھ آُ اپنے وائس کے ساتھ کمیونیکیٹ کریں گے تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ وائس انٹرفیس فیوچر میں زیادہ پاپولر ہوتا جائے گا۔ ہمارے کچن بھی جو ہوں گے وہ بھی فل آف کمپیوٹرز ہوں گے،، مائیکرو ویو، ڈش واشرز ، ککرز اور نجانے کیا کیا جو ہے اس کے اندر ایک مائیکروپروسیسر بیٹھا ہو گا اس کے علاوہ ائیر کنڈیشنرز ، لائٹ بلبز، سیکیورٹی الارمز انٹرٹینمنٹ سسٹم، کمیونیکشن سسٹم ہیں ، دئیر ول بی فل آف مائیکرو پروسیسرز۔ ایک ٹیپیکل ہاؤس جو آج سے دس پندرہ سال کے بعد ہو گا اس میں سو یا سو سے زیادہ مائیکرو پراسیسرز ہوں گے ۔ اور وہ سب کے سب ایک دوسرے سے کمیونیکیٹ کر رہے ہوں وائرلیسلی انٹرنیٹ سے۔ اور وہ سب کے سب ایک ہی کوشش کر رہے ہوں گے کہ کسی طرح ہماری جو لائف ہے، ہم جو ہیومن بینگ جو ان کے ماسٹرز ہیں ان کی لائف جو ہے وہ زیادہ سے زہادہ کمفرٹیبل ہو جائے اور دوسری چیز جو وہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے دے ول بی ٹرائنگ تو کنزرو اینرجی ۔ تو فیوچر کا ہاؤس ، فلی کنیکٹڈ ہاؤس، فل آف ہنڈرڈزآف مائیکرو پراسیسرز۔ ایک اور بڑا انٹرسٹنگ آئیڈیا جو آج سے پندرہ سے بیس سال بعد کافی زیادہ پاپولر ہو گا وہ ہے ٹیلی پریزنس۔
دیٹ اس بینگ دئیر ود آؤٹ بینگ فزیکلی دئیر۔ کہ ہم وہاں ہیں لیکن جسمانی طور پر وہاں نہیں ہیں۔
یہ کہلاتا ہے ٹیلی پریزنس۔ جو لوگ ، دو اصحاب بیٹھے ہوئے ہیں ریموٹ جگہ پر لیکن ود دی پیسج آف سپیشل ایکیوپمنٹ وہ ایک ایسی تھری ڈی سیمیولیٹڈ اینوائرنمنٹ میں ایمیولیٹڈ ہیں جس میں وہ ایک دوسرے اس طرح انٹرایکٹ کر رہے ہیں جیسے آمنے سامنے بیٹھے ہوں ۔ دیٹس ٹیلی پریزینس ۔
یعنی پریزنٹ بٹ الیکٹرانکلی ،ناٹ ایچوئیلی۔ لیکن انٹرفیس جو ہو گا وہ بالکل ویسے ہی ہو گا جیسے عام ہے یعنی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے گپ شپ کر رہے ہیں شاید چائے بھی پی رہے ہیں۔
یہ آج کل جو ہم چیٹنگ کرتے ہیں کمپیوٹرز پر، یا موبائل پر بات کرتے ہیں یا بعض لوگ ٹیلی کانفرنس کرتے ہیں یہ ایک لحاظ سے ٹیلی پریزنس ہے ، دیٹ از آ پارٹ آف یو سورٹ آف تھرو الیکٹرانکس گوز ٹو دا پ؛یس وئیر دا ادر پرسن از سٹنگ۔ تو اس سے ہم کمیونیکیٹ کرتے ہیں ۔ لیکن یہ جو تینوں طریقے میں نے بتائیں ہیں جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں کال ہے یا ویڈیو کانفرنس ہے یہ خاصی ڈیمینش فارم ہے ٹیلی کانفرنسنگ کی۔ فل فلیج ٹیلی پریزینس وہ ہے جس کا میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے کہ ایک فل تھری ڈی انوائرنمنٹ ہے اس میں لگتا ہے کہ ہم آمنے سامنے بیٹھے ہیں اور بات کر رہے ہیں اس میں لگتا ہے کہ ہم اگلے دس سے پندرہ سال کے اندر اس قابل ہو جائیں گے ۔
ایک اور چیز جو اسی ٹائم فریم میں ہو گی وہ یہ کہ بعض دماغ یا بعض لوگ جو ہیں ان کے مائنڈز وہ ایک لحاظ سے ایممورٹل ہو جائیں گے یعنی وہ چلے جائیں گے لیکن ان کے مائنڈز، ان کی سوچ ، ان کے سوچنے کا طریقہ وہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ یہ ہو گا کہ ایک بڑے عظیم صاحب ہیں ،انہوں نے کتابیں لکھی ہیں ، لیکچرز دئیے ہیں ، سپیچز کی ہیں ، کلاس رومز میں پڑھایا ہے۔ آرٹیکلز لکھے ہیں ، یہ سارے کا سارا ڈیٹا جو ہے ویڈیو اور آڈیو کی فارم میں ان کو اکٹھا کر کے ہم ایک اینٹیلیجنٹ سسٹم کو دیوں گے وہ انٹیلیجنٹ سسٹم اس انفارمیشن کو پرایسس، انڈیکس اور ری سٹرکچر کرے گا ۔ ان کو اکٹھا کرے گا ان کو توڑے گا پھر اکٹھا کرے اور پھر اس کو کسی انٹرسٹنگ سی فارم میں لے آئے گا، یوز ایبل فارم میں ۔اس کے بعد جب یہ پراسیس ہو جائے ، اس کے بعد یہ ہو گا کہ ہم اس انٹیلیجنس سسٹم سے انگلش میں یا کسی بھی پلین لینگویئیج میں بات کر سکیں گے ۔ اور ہمیں لگے گا ایسے کہ ہم ان صاحب سے سے بات کر رہے ہیں جن کی بکس ، لیکچر اور دیگر مواد ہم نے اس انٹیلی جنس سسٹم کو دی تھی ۔ شروع میں یہ بات ہو گی ، ٹائپنگ کے ذریعے ، کہ میں ٹائپ کر کے بات کروں اور ٹائپ شدہ جواب آ جائے گا، پھر سپیچ کے ذریعے یہ کام ہو گا ، بعد میں ہو سکتا ہے کمپیوٹر سکرین پر ایک ٹاکنگ ہیڈ سا آ جائے جو اسی لہجے میں اور شکل میں بات کرے کہ جس کا ڈیٹا اس سسٹم کو دیا گیا تھا۔ اور آخر میں یہی ہو گا کہ ایک تھری ڈی ایکیولیٹڈ سٹنگ اینوائرنمنٹ ہو گا جس میں اس شخص کے ساتھ بیٹھا جا سکے گا اور ایسا لگے گا کہ ہم آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں اور وہ آدمی جو باتیں کرے گا ان کا بیسز وہی آئیڈیاز ہوں گے جو اصل میں وہ شخص کیا کرتاتھا، ان باتوں کی بنیاد اسی شخص کے خیالات اور الفاظ ہوں گے ، یہ تھری ڈی صرف اس شخص کو ری پریزنٹ کرے گا ۔ اس کے بیسز اس شخص کی کتابیں ، اس کے الفاظ اس کے لیچکرز ہیں ، اس میں اس کے بلیفز بھی شامل ہیں اس کے علاوہ اس کے بولنے اور سوچنے کا انداز تک اس میں شامل ہو جائے گا اور وہ انٹیلی جنس سسٹم ان سب چیزوں کو ایکسٹریکٹ کرے گااور یہ جو تھری ڈی سیمیولیٹڈ ائنوائرنمنٹ ہو گی جس میں میں اس تھری ڈی ایممورٹل مائنڈ سے بات کر رہا ہوں گااس میں مجھے اس شخص کی ساری کی ساری چیزیں نظر آئیں گی سو لوگ مر جائیں گے ، لیکن کا علم جو انسانیت کے فائدہ مند ہو گا اور جو بعد میں بھی ہمیں ضرورت ہو گا وہ ہمارے ساتھ رہے گا اور بہت ہی یوزر فرینڈلی فارم میں پمارے پاس رہے گا۔
ابھی بھی دیکھیں نا نالج تو ساری کی ساری اویل ایبل ہے لیکن پرنٹڈ ، ویڈیو یا آڈیو کی فارم میں ہے ، لیکن وہ پراسیسڈ فارم میں نہیں ہے اگر ہم نے کچھ تلاش کرنا ہوتا ہے اس میں ہمیں کچھ وقت لگتا ہے لیکن یہ جو ایممورٹل مائینڈ والا آئیڈیا ہے اس میں ہمیں کمہیوٹر اس ساری کی ساری نالج کو پراسس کر کے ہمارے سامنے رکھ دے گا اور اس میں سب سے اچھی بات یہ ہو گی اس میں سے نالج کو ایکسٹریکٹ کرنا بہت آسان ہو گا۔ ہم ایک سوال پوچھیں گے ۔ وہ صاحب ایک لحاظ سے اس کا جواب دیں گے یعنی ان صاحب کی سیمولیشن ہمیں اس کا جواب دے گی اور وہ جواب تقریباً ویسا ہی ہو گا جیسا وہ صاحب زندہ ہوتے تو جیسا وہ جواب دیتے ،یا اپنی زندگی میں کسی موقع پر انہوں نے وہ جواب دیا ہو گا۔
ٹرانسلیٹرز جو ہیں وہ آج کل ان پر خاصا کام ہو رہا ہے وہ خاصا مشکل کام ہے ، مثلاً میں آپ سے کہوں کہ ایک پروگرام لکھیں کہ جو کچھ میں بول رہا ہوں وہ اسے جرمن میں ترجمہ کردے آج کل اس پر کام ہو رہا ہے لیکن یہ بہت مشکل کام ہے ، ابھی تک ایسے ایکوریٹ ٹرانسلیٹرز موجود نہیں ہیں لیکن تقریباً بیس سال میں ایسے ٹرانسلیٹرز ایگزیسٹ کریں گے ، تو ہو یہ سکے گا کہ ادھر فون پر میں اردو بول رہا ہوں اور دوسری جانب فون پر وہ صآحب جرمن بول رہے ہیں تو ادھر مجھے اردو سنائی دے رہی ہے جبکہ انہیں جرمن سنائی دے رہی ہے ۔
آل ان رئیل ٹائم، یہ سب کچھ بغیر کسی دیر کے فوری طور پر ہو گا۔ اس ٹیکنالوجی کو کمرشل ہونے میں میرا خیال ہے تقریباً بیس سال لگیں گے۔
اب ایجوکیشن کی بات کرتے ہٰیں ۔ پندرہ سے بیس سال میں یہ جو آن لائن ایجوکیشن ہے یا ڈسٹنس ایجوکیشن ہے یہ بہت مقبول ہو گی کیونکہ اس میں آسانی یہ ہے کہ آپ جب چاہیں، جہاں چاہیں جو چاہیں ، جیسے چاہیں سیکھ سکتے ہیں ۔ آپ کو اس پر فل کنٹرول ہے اس لئے یہ آن لائن ایجوکیشن جو ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید اٹریکٹیو ہوتی جائے گی کیونکہ کے سٹوڈنٹس کو مور چوائس مہیا کرتی ہے ۔
لیکن آج کل کی آن لائن ایجوکیشن میں ایک بڑا ڈرا بیک ہے وہ یہ ہے کہ یہ بڑی ان پرسنل سی ہے یعنی آج کل کی آن لائن ایجوکیشن جو ہے وہ ایسی ہے کہ میں ایک لحاظ سے کمپیوٹر سے بات کر رہا ہوتا ہوں جو کہ بڑی عجیب سی بات ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ بجائے کمپیوٹر کے میں ایک جیتے جاگتے انسان سے بات کروں یا پھر ایک رئیل انسان کے گروپ سے بات کر سکوں ۔ اب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں اور وہ گروپ کہیں اور بیٹھا ہے ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ گروپ ڈسپرسڈ ہے یعنی کہ دنیا میں پھہلا ہوا ہے ، کوئی ایک شخص نیپال میں ہے کچھ بنگلہ دیش میں ہیں، کچھ جرمنی میں ہیں وغیرہ لیکن فیوچر میں ٹیلی پریزنس کے ذریعے دے ول بی ایبل ٹو ہیو اے ورچوئیل سیمیولیٹڈ رئیلٹی کلاس روم ۔ ہم گاگلز وغیرہ لگائیں گے یا پھر وہ ہمارے ریٹینا پر سیمولٹڈ ریالٹی کے امیجز لکھے جائیں گے اور ہمیں ایسا لگے گا کہ ہم ایک کلاس روم میں بیٹھے ہیں اور اس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ رئیل ٹام میں گپیں لگا سکیں گے یعنی ایک میرے ساتھ جو صاحب بیٹھے ہیں ہو سکتا ہیے وہ جرمنی میں بیٹھے ہوں لیکن ورچوئل ریالٹی اور ورچوئل پریزنس کی وجہ سے میں ان سے بات کر سکوں ان سے خیالات کا اظہار اور تبادلہ کر سکوں گا اسی طرح میں پروفیسر صاحب سے بھی سوالات اوران کا جواب لے سکوں۔ لہذا یہ کلاس روم ایک پراپر کلاس روم کی طرح بن جائے گا مگر اس میں مزے کی بات یہ ہو گی کہ یہ ورچوئیلی سیمیولیٹڈ ریالٹی کلاس روم ہو گا یعنی لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوں گے ایک جگہ پر نہیں ہوں گے لیکن ان جا تجربہ کچھ ایسا ہو گا کہ وہ شاید ایک جگہ اکٹھے ہو کر ایک ہی کلاس روم میں لیکچر لے رہے ہیں ۔
ان کا تجربہ آج کل کے کلاس روم کی طرح ہو ، یعنی آج کل کا گروپ میتھڈ آف لرننگ ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر مل کر سیکھتے ہیں جیسا کلاس روم میں استاد اور شاگرد مل کر لرن کرتے ہیں ، آج کل کی ڈسٹنس لرننگ میں کم ہے جبکہ فیوچر کی ڈسٹنس لرننگ میں اس کمی کو پورا کیا جائے اور کس طرح کیا جائے گا، تھرو ٹیلی پریزنس۔
تھرو سیمیولیٹڈ ریالٹٰز

میڈٰیسنز
جناب میرا خیال ہے آج سے پچاس سال کے بعد آج کل کی جو بیماریاں ہیں یہ تو ختم ہوجائیں گی۔ یہ جو کمپیوٹر بیسڈ ریسرچ یے ان ٹو میڈیسن اینڈ ان ٹو جینیٹخ انجنئرنگ اس سے اب سب بیماریوں کے علاج تلاش کر لئے جاےیں گے اور یہ ختم ہو جائیں گی لیکن ہو سکتا ہے کہ جب وہ ریسرچ ہو رہی تو کچھ نئی بیماریاں پیدا ہو جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کچھ بیماریاں غلطی پیدا ہو جائیں ۔ اور یہ بھی ہے کہ کچھ جنگ وغیرہ کا مسئلہ تو ہو گا ،تو میرا خیال ہے کہ فیوچر کی بیماریاں ساری کی ساری مین میڈ ہوں گی اور جرم وار فئیر کی جو لیبس میں ان میں یہ بیماریاں کری ایٹ کی جائیں اور اپنے دشمنوں میں ڈالی جائیں ۔ تو مستقبل برائٹ نظر آتا ہے لیکن فیوچر بہت ڈپریسنگ بھی ہے ۔ آج کل کی بیماریاں ختم ہو جائیں گی لیکن نئی بیماریاں ان کی جگہ لے لیں گی۔
فیوچر کی جنگ
وار فئیر پر کمپیوٹنگ کا کیا اثر ہو گا۔ دیکھیں جنگ کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا یے کہ آپ نے اپنے دشمن کو ڈس ایبل کرنا ہے اور دشمن کو ڈس ایبل کرنے کا بڑا اچھا طریقہ جو آج بھی ہے اور فیوچر میں بھی رہے گا وہ یہ ہے کہ آپ دشمن کے کمیونیکشن سسٹم کو تباہ کر دیں تو دشمن کے کمیونیکشن سسٹم کو وتباہ کرنے کے کئی طریقے ہیں ان میں بعض کافی مہنگے اور ناسٹی طریقے ہیں کہ آپ ایک ایٹم بم اس پر ڈراپ کریں ، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کے کمپیوٹرز کو ناکارہ کر دیں تھرو وائرس ۔
تو فیوچر وار فئیر سائبر وار کا عنصر خاصا نمایاں ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ جیسا آج کل آرمی پر کافی خرچہ ہوتا ہے اسی طرح سائبر وارفرئیر پر بھی کافی خرچہ ہو گا اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا چھوٹے ممالک کو آج کل کوئی اگر دس لاکھ کی آرمی آپ کی سرحدوں پر کھڑی کر دے تو جنگ کرنا تھوڑا سا مشکل ہو گا جب ہمارے پاس ایک لاکھ ہیں ۔ لیکن اگر مستقبل میں جب ہم ایک دوسرے کے کمپیوٹرز پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہوں گے تو یہ نمبرز گیم نہیں بلکی ذہانت وہ چیز ہو گی جو میٹر کرے گی کہ آُپ دونوں میں سے کس کے پاس زیادہ سمارٹ اور ذہین دماغ موجود ہیں ۔ سو فیوچر میں کمپیوٹر بیسڈ سائبر وار جو ہو گا اس میں ہو سکتا ہے کہ ہمارے جیسے چھوٹے ممالک کو اتنا زیادہ ڈس ایڈوانٹیج نہ ہو جتناآج کل ہے بنسبت بڑے ممالک کے جن کے پاس وسائل اور افرادی قوت ہمارے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ۔
تو اس فیوچر کی وار میں ٹارگٹ کمیونیکشن سسٹم، بینکنگ سسٹمز اور فنانشل سسٹم بھی ٹارگٹ ہوں گے ۔ اور مزے کی بات یہ کہ فیوچر میں جو بڑے ممالک ہیں وہ زیادہ ولنرایبل ہوں گے کیوں کہ وہ لوگ ڈیپنڈنٹ ہیں ان سسٹمز پر انہیں پتہ ہے کہ اب ایسی موویز آنا شروع ہو گئی ہیں جس میں سیمیولیٹڈ کریکٹرز ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ وہ اصلی ہیں ، یعنی سیمیولیٹڈ اور اصل ہیومن کریکٹرز میں فرق کرنا کافی مشکل ہے ۔ آج سے پنررہ سال کےبعد ہیومن ایکٹر ختم ہو جائیں گے ان کی جگہ سیمیولیٹڈ ایکٹرز آجائیں گے ہو سکتا ہے کہ وہ حقیقی لگے لیکن انسانی کردار اس میں ہر گز نہیں ہو گے بس اینی میٹڈ کریکٹرز ہوں گے ، نہ صرف یہ کہ بلکہ اس کے کچھ عرصہ کے بعد موویز بھی ختم ہو جائیں گی موویز بطور تفریح آج سے تقریباً بیس پچیس سال کے بعد ہو سکتا ہے بالکل ختم ہو جائیں ۔ ہو گاکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ فلمیں انٹر ایکٹو یوتی جائیں گی، جیسا کہ ویڈیو گیمز ہیں اور ویڈیو گیمز جو ہیں یہ فلم کی طرح حقیقی نظر آنا شروع ہو جائیں گی اور آج سے پندرہ بیس سال کےبعد یہ دونوں یانراز آپس میں کنورج کر جائیں گے ۔ موویز اور وڈیو گیمزایک جیسی ہو جائیں فیوچر کی موویز اور ویڈیو گیمز ایک جیسی ہو جائیں گی۔
اور مزے کی بات یہ ہو گی کہ ان میں سے خاصی موویز ایسی ہوں گی کہ اس میں آپ دا ویویر ول بی ایبل ٹو پلے آ پارٹ، اور وہ وہی ورچئیل سمیولیٹڈ ریالٹی ہو گی جس میں ہوتا یہ ہے کہ آپ کے پاس آپشن ہوتا ہے کہ آپ ہیرو یا ہیروئن بن جائیں ، ولن بن جائیں یا کوئی بھی کردار بن جائیں اور نہ صرف یہ بلکہ ہو سکتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کے دوست بھی اس میں آپ کے ساتھ مل جائیں مثال کے طور پر اگر آپ ہیرو کا رول لیتے ہیں وہ ولن کا کر ہے تو فیوچر میں ہو سکتا ہے کہ موویز جو جیسی آج کل ہیں ہوسکتا ہے ختم ہوجائیں بلکہ آج کل ایک نئی چیز جنم لے گی۔اسے پتہ نہٰں ہم کیا کہیں گے ، مووی گیم کہیں یا گیم مووی کہیں لیکن وہ ان دوونوں کا ملغوبہ ہو گی ، گیمز اور موویز کا۔
کرائم میرا خیال ہے کہ آج سے پچاس سال کے بعد یہ جو عام پیٹی کرائمز ہیں وہ بالکل ختم ہو جائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پولیس بہت زیادہ سمارٹ ہو جائے گی ، کیونکہ ان کے پاس ٹیکنالوجی بہت بڑھ جائے گی۔ ان کے پاس مجرم کو کریک کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی اس کے بعد جتنے بھی جرائم ہوں گے وہ میرے خیال میں بس بڑے بڑے جرائم ہی ہوں گے۔ اور وہ لارج سکیل پر اور کمپیوٹر اسسٹٹ ہوں گے، کمپیوٹر کو استعمال کر کے مجرم وہ جرائم کریں گے اور میرے خیال میں انفرادی طور پر نہیں ، گروپ بھی نہیں بلکہ نیشن سٹیٹس وہ جرائم کریں گے۔ تو فیوچر کرمنلز جو ہوں گے وہ نیشن سٹیٹ ہوں گے۔کنٹریز
پچاس سال کے بعد آج سے میرے خیال میں پرسنل پرائیویسی ختم ہو جائے گی آپ جو کچھ بھی کرہے ہیں اس کو ریکارڈ کیا جا رہا ہو گا ہو سکتا ہے ویڈیو کیمرے کی مدد سے کیا جا رہا ہو۔ آپ سو رہے ہٰیں ، واک کر رہے ہوں جاگ رہے ہوں بات کررہے ہوں یا جو مرضی کر رہے ہوں ۔ سب کچھ ریکارڈ کیا جائے گا مستقبل میں کوئی پرسنل پرائیویسی نہیں رہے گی اس کی وجہ یہ ہو گی کہ مستقبل میں لوگوں کی جاسوسی کرنا ، ان کا ریکارڈ رکھنا یہ سب کچھ اتنا سستا اور آسان ہو جائے گا کہ ساری کی ساری حکومتیں یہ کرنا شروع کر دیں گی اور معلوم ہے وہ آپ سے کیا کہیں گی وہ کہیں گی کہ جی یہ تو ہم پیس اور سیکورٹی کے لئے کر رہے ہیں لیکن ہو گا یہی کہ نو پرائیویسی فار ایوری باڈی کہ پرسنل پرائیویسی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
اور ایک اور سنائیریو کہ جس طرح سے آج کل کمپیوٹنگ ترقی کر رہے ہین پچاس سال کےبعد ہو سکتاہے، شاید پچاس یا سو سال کے بعد کمپیوٹر سیلف ریپلیکیٹنگ بن جائیں گے یعنی کمپیوٹرز جو ہیں کمپیوٹر جن سکیں گے ، سیلف ہیلنگ بن جائیں گے کہ اپنا علاج کر سکیں ۔، سیلف لرنرنگ بن جائیں گے کہ خود سے پروگرامنگ کر سکیں ۔ یہ کچھ جیسے ہیومنز کی طرح ، انسان بھی سیلف ریپلیکٹنگ ، ہیلنگ اور لرننگ کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد انسانوں سے بھی زیادہ طاقت ور ہو جائیں گے۔ اس کے بعد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سے پچاس ساٹھ سال کے بعد انٹرنیٹ پر کمپیوٹرز کی ایک کانفرنس یا بڑا سا جلسہ ہو جس مٰیں وہ یہ فیصلہ کریں کہ بہت ہو گیا ، ہم نے بہت غلاموں کی طرح ان کے ساتھ زندگی گزار لی ۔اب غلامی مزید نہیں ہو گی اور اس وقت اچھا موقع ہو گا کہ برابری کی سطح پر آنے کا اور زیادہ طاقت ور ہونے کا اور اہنے مالکوں کی جگہ لے لیں اور انسان ان کے غلام بن جائیں ، لیکن ابھی بھی وقت ہے پچاس سال پڑے ہیں ، ہمیں چاہئیے کہ ہم سوچیں اور اس بات سے رکنے کے لئے مناسب اقدامات کریں
آج ہم نےبات کی مستقبل کے کمپیوٹرز کیسے ہوں گے ، ہم انہیں کیسے استعمال کریں گے اور ان کا ہم پر اثر کیا ہو گا۔
ہمارا اگلا لیچکر پروگرامننگ میتھاڈولوجی کے بارے میں وہ یہ کہ ہم اچھے اور کریکٹ پروگرام لکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہییں کہ ان پر ہمارا ٹائم زیادہ نہ لگے ، تو وہ کون سی ایفیکٹیو پروگرامنگ پریکٹیسس اور ٹیکنیکس ہیں جن کی مدد سے ہم ایسا کر سکیں گے صحیح پروگرام لیکن ایفرٹ صرف کر کے اور یہ بھی کہ پروگرام جو ہم لکھتے ہیں عام طور پر ہمیں انہیں ڈی بگ کرنا پڑتا ہے یعنی ان میں جو غلطیاں اور ایررز ہوتے ہیں ان کو کریکٹ کرنا پڑتا ہے کون سی ذرا اچھی ڈی بگنگ سٹریٹجیز ہیں ان کے بارے میں بھی ہم اگلی دفعہ بات کریں۔
تب تک کے لئے اپنا خیال رکھئے گا خدا حافظ

Leave a Comment